EasyHits4U.com - Your Free Traffic Exchange - 1:1 Exchange Ratio, Business social network. FREE Advertising! پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ۔۔۔اورنج لائن ٹرین منصوبہ - عاطف فاروق | Atif Farooq

Breaking News

پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ۔۔۔اورنج لائن ٹرین منصوبہ


Pakistan's First Rapid Transit Train System Orange Line Train Project Pakistan - پاکستان کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین نظام ۔۔۔اورنج لائن ٹرین منصوبہ
 عابد محمود عزام

Abid Mehmood Azaam Lahore  -  عابد محمود عزام
پنجاب حکومت نے لاہور میں اورنج لائن کی صورت میں پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی میٹرو ٹرین کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا ٹریک رائیونڈ روڈ، ملتان روڈ، میکلوڈ روڈ اور جی۔ ٹی روڈ جیسی اہم سڑکوں، شہر کے گنجان آباد علاقوں اور تاریخی عمارات کے قریب سے گزرتا ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا تعمیراتی کام 75 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین کے تحت 27 ٹرینیں چلائی جائیں گی اور ہرٹرین پانچ بوگیوں پر مشتمل ہوگی۔ بوگیوں میں معمر، معذور افراد اور خواتین کے لیے الگ نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین اہل لاہور کے لیے دوست ملک عوامی جمہوریہ چین کا شاندار تحفہ ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ کو نئی جہت عطا کرے گا۔ یہ چین کی طرف سے پاکستان میں سو فیصد لاگت کے ساتھ مکمل کیا جانے والا جدید انفراسٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ کا پہلا منصوبہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ پر مجموعی لاگت ایک کھرب 65 ارب روپے آئے گی۔ ٹرین کا روٹ علی ٹاؤن رائے ونڈ روڈ سے شروع ہو کر براستہ ٹھوکر نیاز بیگ ملتان روڈ، کینال ویو، ہنجر وال، وحدت روڈ، اعوان ٹاؤن، سبزہ زار، شاہ نورسٹوڈیو، صلاح الدین روڈ، بند روڈ، سمن آباد، گلشن راوی، چوبرجی، لیک روڈ، جی پی او، لکشمی چوک میکلوڈ روڈ، ریلوے اسٹیشن، سلطان پورہ، یو ای ٹی، باغبان پورہ، شالا مار باغ، پاکستان منٹ، محمود بوٹی، سلامت پورہ، اسلام پارک اور ڈیرہ گجراں نزد قائد اعظم انٹر چینج رنگ روڈ تک ہو گا۔ شروع میں روزانہ اڑھائی لاکھ افراد استفادہ کریں گے، بعد ازاں یہ تعداد پانچ لاکھ افراد یومیہ تک بڑھ جائے گی۔ عام حالات میں اڑھائی گھنٹے میں طے ہونے والا یہ 27کلو میٹر فاصلہ اورنج ٹرین کے ذریعے صرف 45منٹ میں طے ہو گا۔ اس طرح یہ ضلع لاہور کے جنوبی، وسطی اور مشرقی حصوں کے درمیان تیز رفتار سفر کی سہولت مہیا کرے گا۔ اس میں 26 اسٹیشن، ایک ڈپو اور ایک سٹیبلنگ یارڈ بھی تعمیر کیا جائے گا۔ ٹرین کے 24 اسٹیشنز ایلیویٹڈ اور 2انڈ ر گراؤنڈ تعمیر ہوں گے۔ میٹرو ٹرین کو پہلے پانچ سال تک چین کا عملہ آپریٹ کرے گا، بعد ازاں اس کو پاکستانی عملہ چلائے گا۔ میٹرو ٹرین برقی توانائی سے چلے گی، اس طرح یہ سروس گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی خطر ناک آلودگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ میٹرو ٹرین کو بجلی فراہمی کے لیے 12ارب روپے کی لاگت سے دو گرڈ اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ڈیرہ گجراں پر لاہور اورنج لا ئن میٹروٹرین کے منصوبے کے لیے چین سے لاہور پہنچنے والی بوگیوں اور انجن کی تقریب رونمائی میں مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی، جس میں انہیں چین کی کمپنی چائنہ ریلویز اور پراجیکٹ منیجر نے ٹرین کی علامتی چابی پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے پہلی اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے۔ ملک کی تاریخ پہلی بار میٹروٹرین کا منصوبہ کامیابی سے شروع کیا جا رہا ہے جس پر صرف اہل لاہور ہی نہیں، پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس منصوبے کے لیے 20برس کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دیا ہے اور پہلے 7برس کوئی قسط کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔

واضح رہے کہ دنیا میں اس قسم کے منصوبے بہت پہلے شروع کیے جاچکے ہیں۔ دنیا میں انڈر گراؤ نڈ ریلوے کا نظام سب سے پہلے انگریزوں نے 1863ء میں برطانیہ میں لندن انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم کے نام سے بنایا، جو آج تک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ فرانس میں اس انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم کو میٹرو کا نام دیا گیا۔ اسی طرح یہ نظام امریکا کے بڑے شہروں میں بھی بہت کامیاب رہا ہے۔ ہانگ کانگ، سنگاپور، بنکاک اور دہلی جیسے شہر جنہوں نے بعد میں اس ریلوے نظام کی ابتدا کی اور وہ جگہ کی قلت کی وجہ سے انڈر گراؤنڈ نہیں بنا سکے، انہوں نے اسے اوور ہیڈ برج کی طرز پر بنایا اور یہ سسٹم وہاں بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارا ملک ترقی میں دنیا سے بہت ہی پیچھے ہے، جو کام ہمیں چالیس پچاس سال پہلے کرنا چاہیے تھا، وہ کام ہم آج کر رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ملک بھارت نے دارالحکومت دہلی میں 2002ء میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں دو ارب پچیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے بننے والی زیر زمین میٹرو ریل کا افتتاح کردیا تھا۔ اس سے بھی دو عشرے قبل یعنی 1982ء میں بھارت نے کلکتہ میں زیر زمین میٹرو ٹرین متعارف کروا دی تھی، جس کی 28 کلو میٹر مسافت کی تکمیل 1984ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت سے بھارت میں میٹرو ٹرین مستقل اور بہتر انداز میں عوام کی خدمت میں مصروف ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ بھارت میں کاروں اور بسوں میں کمی آئی ہے، بلکہ آلودگی بھی کم ہوئی ہے۔ اسی طرح 9 ستمبر 2009ء کو 8 ارب ڈالر کی لاگت سے 4 سال کی قلیل مدت میں گلف ریجن کی پہلی آٹومیٹک میٹرو ٹرین کا افتتاح دبئی میں کیا جاچکا ہے۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی اس ٹرین کی اس وقت رفتار 110 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔ دبئی میں 52 کلو میٹر لمبی اور 29 اسٹیشنز پر مشتمل دبئی میٹرو کا 25 فیصد حصہ انڈر گراؤنڈ اور 75 فیصد حصہ اوور ہیڈ برج پر بنایا گیا تھا، جو کہ دبئی میٹرو حکام کے مطابق 2020ء تک میٹرو کے ذریعے روزانہ ساڑھے چار ملین مسافروں کو لے جانے کا منصوبہ تھا۔ چین تو کچھ سال قبل چین سپر ہائی اسپیڈ ٹرین کا آغاز بھی کرچکا ہے، جو کہ 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ یہ برق رفتار ٹرین روٹ اب تجارتی سرگرمیوں کے مرکزی شہر گوانگ ڑو سے محض آٹھ گھنٹوں میں مسافروں کو دارالحکومت بیجنگ تک پہنچا دے گی۔ ان دونوں شہروں کا درمیانی فاصلہ قریب تین ہزار کلومیٹر ہے۔ اس کے باوجود کہ چین میں ٹرینوں کے ہائی اسپیڈ نیٹ ورک کو کئی مسائل کا سامنا ہے، یہ شعبہ ترقی کرتا جا رہا ہے۔ چین میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کا نیٹ ورک 2007 میں قائم کیا گیا تھا، مگر یہ انتہائی تیزی سے اس ضمن میں دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے۔

جس منصوبے کا افتتاح ہمارا ملک آج 2017میں کر کے پھولا نہیں سما رہا، دنیا میں ایسے منصوبے بہت پہلے شروع کیے جاچکے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں ابھی بھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ منصوبہ کب تک پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے، کیونکہ لاہور میں زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ شروع دن سے تنازعات اور تنقید کی زد میں ہے۔ شہر کی سول سوسائٹی اور ماحولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو اعتراض ہے کہ لاہور کی پہچان، متعدد تاریخی عمارتوں کا وجود اس منصوبے کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکا ہے۔ شہر کے اندر قریب دس کلو میٹر کے فاصلے میں گیارہ تاریخی مقامات اور اہم عمارتیں اس منصوبے کی زد میں آرہی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے دارالحکومت میں جاری اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی راہ میں آنے والی گیارہ تاریخی عمارتوں کے قریب دو سو فٹ کی حدود میں ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عاید کی ہوئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے طرف سے جاری ہونے والے ایک سو صفحات پر مشتمل فیصلے میں پنجاب کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ وہ ان گیارہ تاریخی عمارتوں کے قریب ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے ان عمارتوں کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے، عالمی معیار کے حامل غیر جانب دار ماہرین کے ذریعے ایک تازہ اسٹڈی کروائیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں کی تنظیموں نے اس منصوبے کی زَد میں آنے والی تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے کئی ماہ آواز اٹھائی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد شالامار باغ، گلابی باغ، بدو مقبرہ، چوبرجی، زیب النسا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ، ایوانِ اوقاف، سینٹ اینڈریوز چرچ اور بابا موج دریا دربار کے دو سو فٹ کے فاصلے پر تعمیری سرگرمیاں بند ہیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میٹرو ٹرین کے حوالے سے جاری عدالتی سرگرمیاں اگر طول پکڑ گئیں تو اس کی تعمیر میں اتنی تاخیر ہو سکتی ہے کہ حکومت 2018ء کے انتخابات میں اس کا فائدہ حاصل نہیں کر سکے گی۔

لاہور میں رہنے والا ہر شخص اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے کہ کیا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کبھی مکمل ہو گا یا نہیں؟ کیا یونیسکو سے اورنج ٹرین بنانے کی اجازت مل جائے گی؟ یونیسکو نے آٹھ جولائی کو پولینڈ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایک سال کا وقت دیا جس دوران ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کو پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کی یقین دہانی کرنی ہے کہ اورنج لائن ٹرین یا کسی اور حکومتی منصوبے کے باعث لاہور کا شاہی قلعہ اور شالیمار باغ متاثر تو نہیں ہو رہے۔ یونیسکو نے صاف الفاظ میں کہا کہ جب تک یہ دورہ نہیں ہوتا تب تک شالیمار باغ کے قریب اورنج لائن ٹرین پر مزید کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔ ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن ایک خود مختار ادارہ ہے، جو پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ یونیسکو کو جمع کروائے گا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا شاہی قلعے اور شالیمار باغ کو ورلڈ ہیریٹیج کی اس فہرست میں شامل کیا جائے جنہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ لاہور بچاؤ تحریک کی بانی عمرانہ ٹوانا پولینڈ میں ہونے والے یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج سیشن میں موجود تھیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کے وفد نے اورنج لائن منصوبے کے حوالے سے غلط حقائق پیش کیے اور پاکستان واپس آ کر یہ تاثر دیا ہے کہ یونیسکو نے انھیں اورنج لائن ٹرین بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ قطعی اور واضح طور پر غلط بیانی ہے۔ پنجاب حکومت کے وفد نے پاکستان واپس آکر کہا ہے کہ انھیں اورنج ٹرین منصوبے کی اجازت مل گئی ہے، حالانکہ پنجاب حکومت کو قطعی طور پر اس کی اجازت نہیں ملی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ کیا پہلے اس بات سے نابلد تھی کہ عالمی قانون کے مطابق تاریخی عمارتوں سے دو سو فٹ کی حدود میں ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں پر پابندی ہے؟ انتظامیہ کو پہلے یہ عالمی قانون سامنے رکھتے ہوئے اورنج لائن ٹرین کا کام شروع کرنا چاہیے تھا، اگر انتظامیہ ذمہ داری کا ثبوت دیتی تو نہ ہی لاہور کے عوام کو کئی سال سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی ملکی خزانے سے اتنے پیسے کا ضیاع ہوتا اور اب بھی کچھ علم نہیں کہ یہ کام کب تک رکا رہے گا اور لاہور کے عوام کو کب تک پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس ٹرین پروجیکٹ کی وجہ سے لاہور کے اکثر حصے میں تقریباً سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ پورا لاہور دھول مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ گاڑیوں پر سفر کرنے والوں کے لیے بھی مشکلات ہیں اور پیدل چلنے والوں کو بھی شدید پریشانی ہے۔ گاڑی میں پندرہ منٹ کے سفر میں اسی توڑ پھوڑ کی وجہ سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حکومت پنجاب نے 2005 میں لاہور میں ایک تیزرفتار عوامی ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کے لیے ایم وی اے ایشیا کے تعاون سے ایک تحقیق کا انعقاد کرایا تھا۔ اس تحقیقی مطالعے میں ایم وی اے نے چار بنیادی اور مربوط راستوں (گرین، اورنج، بلیو، پرپل) کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔گرین میٹرو لائن منصوبہ، گجومتہ تا شاہدرہ 27 کلو میٹر طویل ریل گزرگاہ پر مشتمل تھا۔ اس راستے کا 15.5 کلومیٹر طویل راستہ پْل کی صورت میں جبکہ 11.5 کلومیٹر ٹکڑا زیرزمین تعمیر کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم (مسلم لیگ نواز کی حکومت نے)اسے زیرزمین ٹرین کی بجائے مکمل طور پر پْل اور سطح زمین پر چلنے والی بسوں کے منصوبے میں بدل دیا، جس سے جہاں دیگر کئی نقصانات ہوئے، وہیں اس تبدیلی کے باعث پورے شہر کے اہم مقامات کو ملانے والے ایک مربوط اور جامع نظامِ آمدورفت کی تعمیر کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ 2006 میں کیے جانے والے تحقیقی مطالعے کے تحت اس کا 20 کلومیٹر حصہ پْل کی صورت میں جبکہ تاریخی مقامات اور آبادیوں کے قریب سے گزرنے والا راستہ نقصان کی شدت کم کرنے کے لیے زیرِزمین تعمیر کیا جانا تھا۔ تاہم اب ترمیم شدہ منصوبے کے تحت 7 کلومیٹر طویل سرنگ کی بجائے اس راستے کا محض.7 1 کلومیٹر حصہ جزوی طور پر زیر زمین تعمیر کیا جائے گا، جبکہ بقیہ 25.4 کلومیٹر طویل راستہ بذریعہ پل طے کیا جائے گا۔ منصوبے میں ان غیر دانشمندانہ ترامیم کی وجہ سے تاریخی عمارات کو شکست و ریخت کے خطرے کا سامنا ہے اور منصوبے میں کی گئی ترامیم کی وجہ سے اس کی افادیت بھی کم ہوجائے گی۔اگر انتظامیہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے پیسے بچانے کے لیے منصوبے میں ترمیم نہ کرتی تو بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا تھا۔