EasyHits4U.com - Your Free Traffic Exchange - 1:1 Exchange Ratio, Business social network. FREE Advertising! نئے سال کا فرشتہ ۔عاطف فاروق - عاطف فاروق | Atif Farooq

Breaking News

نئے سال کا فرشتہ ۔عاطف فاروق




Naye-saal-ka-farishta-kids-story-new-year-angel-by-Atif-Farooq- نئے سال کا فرشتہ ۔عاطف فاروق
نئے سال کے حوالے سے ایک خوبصورت کہانی

کھڑکی پر آہٹ کی آواز نے ننھی نمرہ کی آنکھیں کھول دیں۔ یہ رات کا آخری پہر تھا۔ وہ بستر سے اٹھی اور جوتا پہن کر کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئی ۔ باہر یخ بختہ ہوائیں چل رہی تھیں جبکہ چودھویں کا ماہتاب چاند آسمان کو اپنی نیلگو روشنی سے سیراب کررہا تھا ۔
’’ کون ہے یہاں ؟ ‘‘ نمرہ نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے پوچھا اور باغیچے میں ادھر ادھر نظر دوڑانے لگی ۔ باغیچے کی لائٹ جل رہی تھی مگر وہاں کوئی ذی روح نظر نہیں آرہا تھا ۔
’’ یہاں کون ہے ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ پوچھا ۔
اب کی بار اسے کمرے کی دیوار کے ساتھ لگے درخت کے پتوں کی سرسراہٹ محسوس ہوئی اور چند ہی لمحوں بعد تین فٹ جسامت کا ایک خوبصورت فرشتہ اس کے سامنے نمودار ہوگیا ۔
’’ مم ... مم ... میں ہوں !‘‘ ننھے فرشتے نے ہچکچاتے ہوئے کہا ۔
’’ تم کون ہو؟ اور یہاں کیا کررہے ہو ؟‘‘ ننھے فرشتے کو دیکھتے ہی نمرہ دنگ رہ گئی ۔ اس نے کہانیوں کی کتابوں میں فرشتوں کے متعلق بہت سے کہانیاں پڑھ رکھی تھیں لیکن حقیقت میں فرشتہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی اور وہ اس بات پر بہت خوش بھی تھی ۔ یہ ننھا فرشتہ بھی بالکل کہانیوں کی کتابوں کی طرح ہی انتہا کا معصوم اور خوبصورت تھا جس میں سے چاند کی طرح کی نیلگو روشنی نکل رہی تھی اور اس کے ننھے قدم بھی زمین سے قدرے بلند تھے ۔
’’ میں نیو ایئر اینجل ہوں اور میں یہاں خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کے لئے آیا ہوں ۔‘‘
’’ ننھے فرشتے ! میں آپ کیلئے کیا کرسکتی ہوں ؟‘‘ نمرہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
’’ مجھے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کیلئے کسی کی مدد درکار ہے ، میں اکیلے یہ تقسیم نہیں کرسکتا ۔ کیا تم میری مدد کرنا پسند کروگی ؟‘‘ نیوایئر اینجل کی بات سن کر نمرہ سوچنے لگ گئی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی : ’’ ننھے فرشتے! باہر تو بہت ٹھنڈ ہے ... لیکن ... آپ ایک نیک مقصد کیلئے آئے ہو اس لئے میں آپ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘
نمرہ کا جواب سن کر نیوایئر اینجل کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی ۔
تھوڑی ہی دیر بعد نمرہ گرم کوٹ اور دستانے پہن کر باہر آگئی ۔ نیوایئر اینجل نے اسے ایک خوبصورت ٹوکری تھما دی جس پر ستاروں کی مانند خوشیاں اور محبتیں لکھا ہوا تھا ۔ اس کے بعد نیوایئر اینجل نے نمرہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں ہوا میں اڑنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ اتنی بلندی پر تھے کہ انھیں گھر اور عمارتیں بہت چھوٹی چھوٹی نظر آنے لگی تھیں ۔ اڑتے اڑتے وہ شہر سے باہر ایک پہاڑی علاقے میں آگئے اور ایک سرسبز پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی کے باہر اتر گئے ۔
’’ یہ ہم کہاں آگئے ہیں ؟‘‘ ننھی نمرہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔
’’ نمرہ ! یہ بابا نور محمد کا گھر ہے ۔ یہ ایک نیک اور محنتی انسان ہیں جو دن بھر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور جو مل جائے اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ بابا نور محمد اولاد کی نعمت سے محروم ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی خدا سے اس محرومی کا شکوہ نہیں کیا۔ ہم سب سے پہلا تحفہ انہی کو دیں گے ۔‘‘ نیوایئر اینجل نے نمرہ کو ساری بات تفصیل سے بتائی اور خوشیاں اور محبتیں والی ٹوکری میں سے ایک چھوٹی سی ٹوکری جو بالکل بڑی ٹوکری جیسی ہی تھی اور اس پر بھی ستاروں کی مانند خوشیاں اور محبتیں لکھا ہوا تھا ، نکالی اور جھونپڑی کے باہری دروازے کے سامنے رکھ دی ۔ دروازے کے دستک دینے کے بعد نیوایئر اینجل اور نمرہ چٹان کے پیچھے چھپ گئے ۔ اب ان کی نظریں جھونپڑی کے باہری دروازے پرمرکوز تھیں۔
دستک کی آواز سن کر ادھیڑ عمر بابا نور محمد باہر آئے اور دروازے کے سامنے پڑی خوبصورت ٹوکری دیکھ کر ششدر رہ گئے ۔ ڈرتے ڈرتے انہوں نے ٹوکری کھولی لیکن اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہاتھ بارگاہ ایزدی میں شکرانے کے لئے اٹھ بلند ہوگئے ۔ ان کی آنکھوں سے جاری ہونے والے خوشی کے آنسو نیوایئر اینجل اور نمرہ دور سے دیکھ رہے تھے ۔ نمرہ کو بابا نور محمد کی مدد کرکے دلی مسرت محسوس ہورہی تھی ۔
اس کے بعد وہ دونوں اڑتے ہوئے ایک ہسپتال کے باہر اتر گئے ۔ اب ان کے سامنے بچوں کا وارڈ تھا جس میں دس کے قریب بچے زیر علاج تھے ۔ نیوایئر اینجل نے ایک بار پھر خوشیاں اور محبتیں والی ٹوکری کھولی اور یکے بعد دیگرے اس میں سے دس خوبصورت گلدستے نکال لئے ۔ گلدستوں میں لگے پھول نہایت ہی خوبصورت اور خوشبو دار تھے۔ نمرہ نے ان جیسے خوبصورت اور خوشبودار پھول کبھی نہیں دیکھے تھے ۔
’’ ننھے فرشتے ! یہ پھول کتنے خوبصورت ہیں ۔‘‘ نمرہ ایک گلدستے کو سونگھتے ہوئے بولی ۔
’’ ہاں بالکل ! یہ گلِ شفا کے گلدستے ہیں ، ان کی خوشبو میں خوشیاں بھی ہیں اور شفا بھی ۔ جب بچے صبح بیدار ہوکر یہ پھول دیکھیں گے تو بہت خوش ہوں گے اور کچھ ہی دنوں میں صحت یاب بھی ہوجائیں گے۔‘‘ نیوایئر اینجل نے مسکراتے ہوئے بتایا اور کھڑکی میں سے وارڈ میں داخل ہوکر تمام بچوں کے پاس گلدستے رکھ دئیے ۔
یہاں سے فراغت پاتے ہی وہ دونوں اڑتے ہوئے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جاپہنچے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ سب گھروں میں اندھیرا تھا لیکن ایک گھر سے روشنی کی کرنیں نمودار ہورہی تھیں ۔ وہ دونوں اسی گھر کے صحن میں اتر گئے ۔ گھر کے سب افراد سو رہے تھے مگر ایک بوڑھی خاتون نماز تہجد کی ادائیگی میں مشغول تھی ۔
نیوایئر اینجل ‘ نمرہ کو بتانے لگا کہ یہ بوڑھی خاتون کئی سالوں سے نماز تہجد باقاعدگی سے ادا کررہی ہیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے وہ بندے بہت ہی پیارے ہوتے ہیں جو راتوں کو اٹھ کر اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کا شکر بجالاتے ہیں ۔ نیوایئر اینجل نے خوشیاں اور محبتیں والی ٹوکری سے ایک اور ٹوکری نکالی اس گھر کے صحن میں رکھ دی اور وہاں سے بھی روانہ ہوگئے ۔
لوگوں میں خوشیاں اور محبتیں کے تحائف تقسیم کرکے نمرہ کو بہت خوشی محسوس ہورہی تھی اور وہ اسے اس بات پر فخر بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے ۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ وہ دونوں ایک سکول نما وسیع و عریض عمارت میں اتر گئے ۔ یہ ایک اقامتی تعلیمی ادارہ تھا جس میں سکول کی عمارت کے ساتھ ہی ایک بہت بڑا ہاسٹل بھی قائم تھا ۔ نیوایئر اینجل نے نمرہ کو بتایا کہ اس علاقے میں کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ علم جیسی بنیادی نعمت سے محروم تھے ۔ اللہ کے ایک برگزیدہ بندے عبدالستار نے اپنی ذاتی زمین اور وسائل سے یہ ادارہ قائم کیا جہاں اس وقت پانچ سو سے زائد طلبہ زیور علم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔ یہاں پر دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی مفت دی جارہی ہے ۔ یقیناًوہ لوگ سب سے اچھے ہیں جو خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں ۔ باتیں کرتے کرتے وہ دونوں ایک چھوٹے سے کمرے کے پاس پہنچ گئے جہاں اس ادارہ کے مہتمم عبدالستار قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھے ۔ نیوایئر اینجل نے بغیر کوئی آواز پیدا کئے خوشیاں اور محبتیں کی ایک ٹوکری ان کے کمرے کے دروازے کے سامنے رکھ دی اور اگلی منزل کے لئے ایک بار پھر فضا میں بلند ہوگئے ۔
’’ ننھے فرشتے ! خوشیاں اور محبتیں والی یہ ٹوکری کس قدر خوبصورت ہے۔ ہم نے اس میں سے کافی تحائف دے دئیے ہیں لیکن یہ پھر بھی بھری ہوئی ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ ‘‘ فضا میں اڑتے ہوئے نمرہ نے نیوایئر اینجل سے سوال کیا ۔
’’ ننھی نمرہ ! جس طرح خوشیاں اور محبتیں جتنی مرضی بانٹی جائیں تو ختم نہیں ہوتیں اسی طرح میری خوشیاں اور محبت والی ٹوکری بھی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اگر تم اسی طرح میرے ساتھ خوشیاں اور محبتیں بانٹتی رہو تو دیکھنا تمھاری اپنی زندگی بھی بے پناہ خوشیوں اور محبتوں سے بھر جائے گی کیونکہ خوشیاں اور محبتیں بانٹنے سے کم نہیں ہوتیں اور جو لوگ خوشیاں اور محبتیں بانٹتے ہیں ان کا اپنا دامن بھی ہردم خوشیوں اور محبتوں سے لبریز رہتا ہے ۔‘‘ نیوایئر اینجل مسکراتے ہوئے بولا ۔
’’ محبت اور خوشی کے بارے میں تمھارے خیالات کتنے اچھے ہیں ۔‘‘ نمرہ بھی جواباً مسکراتے ہوئے بولی ۔
’’ کیا میں تمھیں اس بارے میں کچھ اور بھی بتاؤں ؟‘‘
’’ ہاں ... کیوں نہیں !‘‘
’’ انسان نے جس دن سے دنیا کے اندر قدم رکھا ہے اور اس نے اپنی کتابِ زندگی کے اوراق کھولے ہیں ، اس وقت سے لے کر ان آخری لمحات تک جب تک اس کی کتابِ زندگی ختم ہونے والی ہوتی ہے وہ محبت ، خلوص ، نوازش اور مہربانی کا بھوکا رہتا ہے۔ مصائب و آلام اور ناکامی و ناامیدی جیسی حالت میں بھی اس کے زخم و غم کا مرھم صرف نوازش و محبت ہی ہوا کرتی ہے ۔ اپنے ہم نوع افراد سے الفت و محبت انسانی جذبات کا درخشاں ترین جذبہ ہے بلکہ اس کو فضائل اخلاقی کا منبع سمجھنا چاہیے ۔ دوسروں کی محبت حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان دوسروں سے محبت کرے ۔ دوسروں سے اظہارِ محبت بڑا نفع بخش سودا ہے اگر کوئی اپنے خزانہ ء دل کے اس جوہر کو دوسروں کو دے دے تو اس کے بدلے میں اس کو بڑے قیمتی جواہرات ملیں گے۔ لوگوں کے دلوں کی کنجی خود انسان کے ہاتھ میں ہے اگر کوئی محبت کے بیش قیمت خزانوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اپنے پاس خلوص و محبت سے بھرا دل رکھے اور لوحِ دل کو تمام ناپسندیدہ صفات سے منزہ کرلے۔‘‘ نیوایئر اینجل بولتا جارہا تھا اور نمرہ اس کی خوبصورت باتیں سنتی جارہی تھی ۔ اسی گفتگو میں نمرہ کو پتا بھی نہ چلا کہ وہ اپنے گھر کے باغیچے میں پہنچ چکی ہے ۔ نیوایئر اینجل کی باتوں کی سچائی نے اسے بے حد متاثر کیا تھا ۔ اب فضا میں اذانِ فجر کی آواز گونجنے لگی تھی ۔
’’ نمرہ بیٹی ! نماز کے لئے اٹھ جاؤ۔‘‘ کسی نے اس کو نرمی سے جھنجھوڑا تو اس کی آنکھ کھل گئی۔
اس کے سامنے اس کی پیاری امی جان کھڑی مسکرا رہی تھیں ۔
’’ اوہ ہو .... تو وہ خواب تھا ... !!!‘‘ نمرہ آنکھیں ملتے ہوئے بولی ۔
’’ کیا آج پھر کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ‘‘ امی جان نے شرارت کے موڈ میں کہا تو وہ دونوں ہنسنے لگیں ۔
’’ چلو اٹھ جاؤ میری بچی ! ... اور ہاں ہیپی نیو ائیر !‘‘ امی جان کہتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں اور نمرہ بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگی :
’’ ہیپی نیو ایئر امی جان !‘‘


ٹیگ:
بچوں کا ادب
نئے سال کا فرشتہ کہانی
نیو ائیر اینجل
عاطف فاروق
بچوں کی دلچسپ کہانیاں
بچوں کی کہانیاں
Kids Story New Year Angel

***********