EasyHits4U.com - Your Free Traffic Exchange - 1:1 Exchange Ratio, Business social network. FREE Advertising! جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور ہیروشیما دھماکوں کے 72 سال - عاطف فاروق | Atif Farooq

Breaking News

جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور ہیروشیما دھماکوں کے 72 سال



جمعۃ المبارک 04 اگست 2017ء
بشکریہ: روزنامہ ’’سماء‘‘، روزنامہ ’’جرأت‘‘، روزنامہ ’’اساس‘‘،روزنامہ ’’اوصاف‘‘ لاہور

6 اگست کا دن عالمی سطح پر ’’یوم ہیروشیما‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ آج سے 72 سال قبل اسی روز دنیا پہلے ایٹمی حملے سے لرز اُٹھی اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کے چراغ بجھ گئے ۔ یہ 6 اگست 1945 ء کا دن تھا جب امریکہ نے جاپان کے شہر
ہیروشیما پر ایک بمبار جہاز کے ذریعے ’’لٹل بوائے‘‘ نامی ایٹم بم گرایا ۔ آج سے 72 سال قبل ہونے والے دنیا کے پہلی ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں 66000 افراد موقع پر ہی لقمہ ء اجل بن گئے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ ہوگئی ۔ تابکاری شعاعوں اور مہلک اثرات سے متاثر سے ہونے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔ دھماکے کی شدت کا اس قدر خوفناک تھی کہ ساٹھ کلومیٹر کے علاقہ میں دھماکے کی دھمک محسوس کی گئی جبکہ پانچ کلومیٹر کے علاقہ میں موجود تمام عمارتیں تہس نہس ہوگئیں۔ دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد بھی ہیروشیما کے آسمان پر دھوئیں کے بادل کھمبی کی شکل میں برقرار رہے ۔ جاپان اس وقت امریکہ میں ہونے والی ایٹمی تحقیق سے آگاہ نہیں تھا ۔ اسے اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا کہ ان کا دشمن ایٹمی تحقیق میں اس قدر آگے نکل چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہیروشیما پر ایٹمی دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد بھی جاپانی یہ نہیں جان پائے کہ دشمن کی طرف سے کس نوعیت کا حملہ کیا گیا ہے ۔ دھماکے کے 16 گھنٹوں بعد خود امریکہ کی طرف سے ایٹمی حملے کی تصدیق کی گئی ۔ اس موقع پر امریکہ کے صدر ٹرومین (Truman) نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایک بمبار جہاز کے ذریعے ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کیا ہے ۔ امریکی صدر نے جاپان کے حکمرانوں کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر جاپان نے امریکہ کی امن کے قیام اور جنگ بندی کی شرائط کو قبول نہ کیا تو جاپان پر مزید اسی نوعیت کے حملے کئے جائیں گے ۔ 

ہیروشیما کی تباہی کے محض تین روز بعد یعنی 9 اگست 1945ء کو امریکی جہاز نے ایک بار پھر جاپانی شہر ناگاساکی پر ’’فیٹ مین‘‘ نامی ایٹم بم گرادیا ۔ اس ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں 40000 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد جاپان نے 15 اگست کو ہتھیار ڈال دئیے اور امریکی شرائط کو قبول کرلیا ۔ یوں دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی ۔ جنگ تو ختم ہوگئی تاہم ایٹم بم کے پہلے استعمال نے دو قوموں یعنی امریکہ اور جاپان کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار قائم کردی جو آج تک قائم ہے ۔ دونوں قوموں میں رچی بسی نفرت کا اندازہ اس سروے سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو 2015ء میں ایک نجی ادارے نے امریکہ اور جاپان دونوں ممالک میں کروایا تھا ۔ سروے کے نتائج کے مطابق 72 سال گزر جانے کے باوجود بھی 65 فیصد امریکی تاحال یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا ایٹمی حملہ کرنا درست اور حالات کا تقاضا تھا جبکہ 79 فیصد جاپانی امریکی ایٹمی حملوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔ جاپان پر ایٹمی حملوں کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ حقائق بھی منظر عام پر آگئے کہ امریکہ میں نیوکلیئر تھیوری میں فادر (Father) کا درجہ پانے والے سائنس دان لیو زیلرڈ (Leo Szilard) نے جولائی 1951ء میں امریکی صدر ٹرمین کو ایک درخواست ارسال کی تھی جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جاپان کے خلاف نیوکلیئر دھماکوں سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک اور بھیانک ہوں گے ۔ لیو زیلرڈ کی اس درخواست پر مزید 80 سائنس دانوں کے بھی دستخط ثبت تھے جو لیو زیلرڈ کے موقف کی تائید کرتے تھے ۔ تاہم اس وقت کے صدر ٹرومین جاپان پر ایٹمی حملے کرکے روس کو اپنی طاقت کا احساس جتلانا چاہتے تھے اور انھیں یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے ۔  

اس وقت عالمی سطح پر جو مسائل دردِ سر سمجھے جارہے ہیں ان میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ سرفہرست ہے ۔ اقوام متحدہ جس کے قیام کو سات عشرے بیت چکے ہیں ، اس بابت مثبت کوشش کررہا ہے تاہم بعض ممالک اقوام متحدہ کی عالمی امن عامہ کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ ایسے ممالک کی ہٹ دھرمی ، جارحیت اور دراندازی عالمی امن کی راہ میں مستقل رکاوٹ بن چکی ہے ۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ نے امسال مارچ میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنا تھا ۔ یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی جس میں اقوام متحدہ کے سو سے زائد رکن ممالک کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایسا قانون وضع کیا جائے جس پر تمام ممالک اتفاق کرسکیں اور جس پر عمل درآمد قانونی طور پر لازمی ہو ۔ تاہم اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کے نتائج امیدوں کے بالکل برعکس برآمد ہوئے اور کئی جوہری طاقتوں نے اس کانفرنس کو مسترد کردیا۔ فرانس ، برطانیہ ، اسرائیل ، روس اور امریکہ نے اس کانفرنس کا انعقاد نہ کرنے کے حق میں ووٹ دے کر اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جبکہ پاکستان ، بھارت اور چین نے سِرے سے اس کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کی ۔ عالمی امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ جوہری ممالک ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ بند کریں اور عالمی قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں میں اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ دنیا کو عالمی امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کی بابت واضح اور موثر پالیسی بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ 



*۔۔۔*۔۔۔*